30 اکتوبر 2010 - 20:30

عراق کے نیشنل الائنس جس میں نوری المالکی کی سیاسی جماعت سمیت کرد اتحاد بھی شامل ہے، نے سعودی عرب کی جانب سے عراق میں کل جماعتی کانفرنس بلانے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق عراقی قومی اتحاد نے سعودی بادشاہ عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو پسند نہیں کرے گا اور نئی حکومت کی تشکیل کے لئے متعینہ ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔وزیر اعظم نوری المالکی کا کہنا ہے کہ عراقی رہنما آپس میں گفت و شنید کے بعد اس بات کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ حکومت سازی کے عمل کے سلسلے میں کیا کرنا چاہئیے تاہم کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔عراقی شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی کے اس بیان کے بعد تمام شیعہ اتحادی جماعتوں نے نور المالکی کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس حوالے سے پارلیمان کی 57 نشستوں کے حامل کرد اتحاد نے بھی وزیر اعظم کی حمایت اور سعودی پیشکش کی مخالفت کرتے ہوئے نوری المالکی کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب سے سابق وزیر اعظم ایاد علاوی نے ایک مرتبہ پھر خیانت کا ارتکاب کرتے ہوئے سعودی بادشاہ کی جانب سے عراقی حکومت کی تشکیل کے لئے کی گئی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے اور اس تجویز کو خوشآیند قرار دیا ہے جس رد عمل میں عراقی سیاسی اتحادوں نے ان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔یاد رہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز نے حالیہ ہفتوں کے دوران عراق کی تشکیل حکومت کے عمل میں براہ راست مداخلت کرنا شروع کی ہے جبکہ اس سے قبل ایاد علاوی کی بھرپور مالی اور سیاسی حمایت کرکے بالواسطہ طور پر مداخلت کررہے تھے۔ انھوں نے نے عراقی رہنماؤں کو حج کے بعد سعودی عرب آکر حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی تھی جسے عراقی راہنماؤں نے مسترد کردیا۔ایک کرد سنی رہنما محمود عثمان کا کہنا تھا کہ سعودی پیشکش بے وقت اور بے فائدہ ہے اور اس سے حالات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ رائٹرز کے مطابق عراق کی قومی اتحاد پارٹی کےایک سرکردہ رہنما حسن السنید نے بھی رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کرکے کہا ہے کہ عراقی حکومت بغداد میں تشکیل پائے گی اور عراقی حکومت کو ریاض میں تشکیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ عراقی اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور حکومت کی تشکیل میں تاخیر بھی ان ہی کوششوں کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔

.....

/110